Header Ads Widget

Google ads

نشو ونما کی تعریف ، نشو نما کے عمل پر اثر انداز ہونے والے عوامل

 

 نشو ونما کی تعریف بیان کریں نیز نشو نما کے عمل پر اثر انداز ہونے والے عوامل کا احاطہ کریں۔ 

بالیدگی اور نشونما

بالیدگی کی اصطلاح مقداری اضافے کے معنی میں استعمال ہوتی ہے ۔ جب کہ نشو نما ایسے اضافے کو کہتے ہیں جس کا تعلق معیار کے ساتھ ہو ۔ ایک بچے کی قد اور جسامت کا اضافہ بالیدگی کہلاتاہے اور جسم کی بڑھوتری کے ساتھ ساتھ اس کادماغ اور جسم کی اندرونی کیفیات میں بھی تبدیلیاں رونما ہو تی ہیں اور ذہنی طور پر بھی تبدیلیاں آتی ہیں یہ نشونما کہلاتی ہیں۔ پس ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ بالیدگی اورنشونما سے مراد وہ جسمانی ، ذہنی، معا شرتی ،اور جذباتی تغیرات اورتبدیلیاں ہیں جو پیدائش سے لے کر بلوغت تک رونما ہوتی ہیں۔

اہم باتیں :

توارث: اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ عادتیں بچوں میں ان کی والدین کی طرف سے ان کو وراثت میں ملتی ہیں جس کی وجہ سے اس کی بالیدگی ہو جاتی ہے ۔ پھر پیدائش اور ماحول کے اثرات سے فرد کی نشونما ہوتی ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ بالیدگی اور نشو نماآہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ ہوتی رہتی ہے ۔ جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ذہنی پرورش بھی پروان چڑھتی رہتی ہے لیکن جسمانی نشو نما ایک حد تک جا کر رک جاتی ہے مگر ذہنی ، جذباتی، اور معاشرتی تبدیلیاں زندگی بھر جاری رہتی ہیں اس کے سوچنے، سمجھنے، اُٹھنے بیٹھنے ، ااور خوشی اور غم کے انداز وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں

نشو ونما ایک طبعی عمل ہے جس میں کسی ذاتی یا جسمانی مادے کی نشوونمائی قوت سے سرے پر اوپر کی جانب بڑھنے یا توسیع پذیر ہونے کا عمل ہوتا ہے۔ یہ عمل عموماً زندگی کی مختلف مراحل، مثلاً پیدائش، رشد، اور توسیع، میں دیکھا جاتا ہے۔ نشو ونما کا معنی وسیع ہوتا ہے اور اس میں جسمانی، روحانی، ذہائی، اور معنوی ترقی کے پروسسز شامل ہوتے ہیں۔

نشو نما کے عمل پر اثر انداز کرنے والے عوامل:

1.      پروٹینز (زرعی فصل کاری): زرعی فصل کاری کے عمل میں پروٹینز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی مدد سے نشوونمائی مادے کی تخمیر کو بڑھایا جاتا ہے جو پودوں کی رشد اور توسیع کو تسریع دیتے ہیں۔

2.      گرمی (درجہ حرارت): گرمی نشو نما کے عمل کو تسریع دینے کا کردار ادا کرتی ہے۔ مناسب درجہ حرارت میں نشوونمائی مادے کی رشد بہتر ہوتی ہے لیکن زیادہ حرارت کی صورت میں نشوونمائی مادے کی موت بھی ممکن ہوتی ہے۔

3.      پانی (آبیات): مناسب پانی کی دستیابی نشو نما کے عمل کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ زمین کی نمی، پرتوں کی اوبھرنے والی موجوں، اور جوہری اجزاء نشو نما کے عمل کو متاثر کرتے ہیں۔

4.      خاک (مٹی): مٹی کی خصوصیات بھی نشو نما کے عمل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ مناسب خاک کی موجودگی میں پودوں کی رشد بہتر ہوتی ہے۔

5.      کاربن ڈائی آکسائیڈ (زندگی کے عوامل): کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار نشو نما کے عمل کو بڑھا سکتی ہے جو پودوں کی رشد اور توسیع میں مدد فراہم کرتا ہے۔

6.      کیمیائی کارکردگی (ہارمونز، رگولیٹرز): مختلف ہارمونز اور رگولیٹرز نشو نما کے عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں جو پودوں کی رشد کو کنٹرول کرتے ہیں۔

یہ مختلف عوامل مل کر نشو نما کے عمل کو متاثر کرتے ہیں اور ان کے تدابیری اثرات سے پودوں کی رشد، توسیع، اور پیدائش پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مناسب ماحولی شرائط کی توفیق سے نشو نما کے عمل کو ترویج دینے میں ان عوامل کا کردار اہم ہوتا ہے جو زندگی کی مختلف روایات کو نمایاں کرتا ہے۔

 

Post a Comment

0 Comments